مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران نے کسی صورت خطے میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی بین الاقوامی قوانین سے تجاوز کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائچی کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے جنگ کے خاتمے کی ضرورت کے حوالے سے جاپان کے مثبت مؤقف پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران نے کسی صورت خطے میں بدامنی کی کوشش نہیں کی، جبکہ امریکہ اور صہیونی حکومت نے ایران پر جارحیت، رہبر معظم کو شہید کرنے، میناب کے طلباء سمیت بڑی تعداد میں عام شہریوں کی شہادت اور شہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرکے خطے کے امن و استحکام کو متاثر کیا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے کسی صورت بین الاقوامی قوانین سے تجاوز نہیں کیا اور ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے جاپان کی سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوں گی اور خطے میں جارح طاقتوں کو جرائم اور جنگ مسلط کرنے سے روکنے میں مؤثر کردار ادا کریں گی۔
جاپان کی وزیر اعظم نے بھی اس موقع پر جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی طریقوں کی حمایت پر زور دیا اور اسے ایران اور خطے کے طویل مدتی مفادات کے مطابق قرار دیا۔
تاکائچی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کامیابی سے مکمل ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے آمدورفت کا راستہ جلد از جلد دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
جاپان کی وزیر اعظم نے ایرانی صدر سے یہ بھی درخواست کی کہ وہ باب المندب میں کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے ایران کے اثر و رسوخ کو بروئے کار لائیں۔
ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے مذاکرات جاری رکھنے اور دونوں اقوام کے درمیان تاریخی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
آپ کا تبصرہ